علی وزیر کا غرور 11 336

علی وزیر کا غرور

دسمبر جب بھی آتا ہے اداسی اور افسوس کا احساس بڑھ جاتا ہے سقوط ڈھاکہ کی تلخ یادیں خودشی اور مسرت پر غالب آجاتی ہیں دل چاہیتا ہے کچھ ایسا ہوجائے کہ اس شکست کا بدلہ لے لیں۔ دشمن کے ساتھ ایسا تو کریں کہ حساب برابر ہوجائے۔ مگر کئی سال بیت گئے ہیں اور ہم کچھ بھی نہیں کرسکے۔ اور اب ایسا لگ رہا ہے کہ ماضی کا حساب لینا تو دور کی بات۔۔اپنے وجود پر مستقبل میں ہونے والے حملوں سے بھی شاید نہ بچ سکیں۔ ٹوئٹر، فیس بک اور یوٹیوب پر ایسا مواد روزانہ کی بنیاد پر چڑھایا جارہا ہے جو پکار پکا ر کر کہہ رہا ہھے کہ نئی سازش تیار ہے۔ نئے مورچے بن چکے ہیں اپنے ہی چراغ اپنے گھر کو خاکستر کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اب اپنی دھرتی ماں کو گالی دینا سب سے آسان ہے۔کچھ بھی ہو اس کا الزام اپنے اداروں کو دینا عام فیشن بن چکا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے اندر خامیاں، کمزوریاں اور کوتاہیاں موجود ہوں گی۔ لیکن پورے گھر کو گرادینا کی باتیں، پورے نظام کو مفلوج کرنے کی دھمکی بتارہی ہے کہ تباہی کے اس نئے پودے کی آبیاری کوئی دشمن ہی کررہا ہے۔ ویسے تو ایک طویل فہرست ہے کہ بربادی اور تباہی کیلئے کیا کچھ ہورہا ہے لیکن گزشتہ دو تین دنوں سے پی ٹی ایم کے ایم این اے علی وزیر کی تصویر چل رہی ہے جس میں انہیں ہتھکڑی لگی ہے۔۔اس تصویر نے سوشل میڈیا پر کہرام مچارکھا ہے۔۔ ہمارے صحافی، دانشور، سیاستدان سب کی زبانوں پر ایک ہی بات ہے۔ منتخب نمائندے کا یہ حال۔۔ وطن عزیز کو توڑ دے گا۔۔ اس کو ہمارے مقتدر اداروں کی ناجائز اور غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔۔ اور علی وزیربھی ایک اکڑ اور متکبرانہ انداز میں پولیس کے ساتھ چل رہے ہیں۔۔ جیسے پشتو اور پنجابی فلموں کا ہیرو کسی ظالم کے سامنے کھڑا ہوکر مزاہمت کررہا ہے۔۔ ہوا کیا تھا؟ علی وزیر نے کیا کیا تھا جس کی بنا پر گرفتاری ہوئی؟ اور گرفتار کرنے والے، پرچہ درج کرنے والے کون لوگ تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ علی وزیر نے پی ٹی ایم کے زیراہتمام الاآصف اسکوائر کراچی میں جلسہ کیا اور اپنی تقریر میں پاکستان کو گالیاں دیں۔۔ پاکستانی فوج کو ظالم قرار دیا۔ اور اعلان کیا کہ پاکستانی فوج کے سپاہی سے لیکر جرنیل تک سے ان کے ظلم کا حساب لیا جائے گا۔۔ کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔۔ کراچی کے تھانے سراب گوٹھ میں ایف آئی آر درج ہوئی جس میں علی وزیراور منظور پشتین سمیت 12افراد کو نامزد کیا گیا۔۔ سندھ کی وزارت داخلہ نے کے پی حکومت سے درخواست کی کہ علی وزیر ایم این اے کی گرفتاری میں مدد کی جائے۔اور سندھ پولیس کے اہلکاروں کو پشاور بھیج دیا گیا۔۔ کے پی پولیس کی مدد سے علی وزیر کو سندھ پولیس نے گرفتار کیا اور پھر اسے کراچی پہنچادیا۔۔ جہاں قانون کے مطابق کارروائی ہورہی ہے۔ علی وزیر جیل میں ہیں۔۔ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے خلاف عدالت میں جانے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ ان پر پاکستان کے خلاف تقریر کے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے حکام کے پاس ان کی تقاریر کی آڈیو موجود ہے۔ علی وزیر اپنے اوپر لگنے والے کسی الزام کو غلط قرار نہیں دے رہے بلکہ ان کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ جو کہا اس پر قائم ہیں اور وہ سب سچائی پر مبنی ہے۔چلیں مان لیتے ہیں کہ علی وزیر کون سا فرارہورہے تھے اس لئے اگر پولیس ہتھکڑی نہ لگاتی تو بہتر ہوتا۔ لیکن جو گالیاں پاکستان اور ہمارے جوانوں کو دی گئیں ان کی کوئی وضاحت ہے؟ علی وزیر کے خلاف پرچہ سندھ حکومت نے کاٹا۔ اور بلاول بھٹو اس پر تنقید کررہے ہیں۔ اگر یہ غلط ہوا ہے تو بلاول بھٹو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو حکم دے سکتے ہیں کہ پرچہ خارج کرو اور علی وزیر کو رہا کرو۔۔ لیکن یہ سب دانشور اور پی پی کے رہنما پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں۔۔آئین پاکستان ہمارے ااروں کے خلاف توہین کی اجازت نہیں دیتا بالکل ایسے ہی جس طرح امریکا، یورپی ممالک اور ہندوستان کے قوانین ان کے اداروں کے تقدس کی حمایت کرتے ہیں۔ آپ کے حالات 1971سے مختلف نظر نہیں آتے۔شیخ مجیب الرحمان کو اسلام آبا کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو آتی تھی۔۔ آپ کے اختر مینگل، محمود خان اچکزئی کو پنجابیوں اور اردو زبان سے گلہ ہے۔ نواز شریف اور ان کی دختر نیک اختر کو پاکستان کی تمام برائیوں کو جڑ آئی ایس آئی اور عدلیہ نظر آتی ہے۔۔ علی وزیر کو ہتھکڑی لگنے پر جس تکلیف کا اظہار کیا گیا ہے اگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ہمارے جوانوں کے خلاف ہرزہ سرائی پر افسوس کا اظہار بھی کردیا جاتا تو معاملہ سمجھ میں آرہا تھاکہ دکھ برابر ہے۔لیکن اب تو پوری دال ہی کالی لگ رہی ہے۔ پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں کا آزادمیڈیا روزانہ کی بنیاد پر یہ گفتگو کرسکتے ہیں کہ یہ ملک رہے گا یاٹوٹے گا۔۔ اگریہ سب اسی طرح چلتا رہا۔پاکستان کو گالی نکالنے والے اسی طرح اکڑ کر ہیروز کی مانند چلتے رہے، ہمارے دانشور اسی طرح ان کی تعریف کرتے رہے تو آنے والے جاڑوں میں روح کے زخم اتنے گہرے ہوسکتے ہیں کہ ہم جی نہ پائیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

علی وزیر کا غرور” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں