لاہور جلسہ اور تحریک انصاف ۔۔۔۔۔ سمیع ابراہیم 11 579

لاہور جلسہ اور تحریک انصاف ۔۔۔۔۔ سمیع ابراہیم

لاہور جلسہ ن لیگ کیلئے خاصی اہمیت کا حامل تھا۔ اس جلسے نے ن لیگ کی مستقبل کی سیاست کا تعین کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اور صحافتی محفلوں میں اب تک یہی جلسہ زیر بحث ہے۔ 13 دسمبر کے دن بروز اتوار، بحیثیت صحافی جلسے میں شرکت کیلئے میں نے بھی شہر اقبال کے لیے رخت سفر باندھا۔ دن کے وقت جب سڑکوں پر ایک جم غفیر ہونا چاہیے تھا، لاہور کی کئی سڑکیں کارکنان کی راہ تکتی دکھائی دیں۔ میکلورڈ روڈ، ریلوے سٹیشن، بند روڈ اور مال روڈ اور سمیت اکثر جگہوں پر ہُو کا عالم تھا۔ مینار پاکستان گراؤنڈ میں لاہور کے مقامی افراد کی کمی تھی۔ جلسے کے شرکاء کی اکثریت کا تعلق لاہور کے باہر سے تھا۔ جن میں مولانا فضل الرحمن کی پیروکار کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ یقیناً یہ مناظر اس جماعت کیلئے تضحیک آمیز تھے، جس کے گڑھ میں جلسہ ہو اور ان کے حامی اسے بھر نہ سکیں۔

زمینی حقائق دیکھیں تو اس وقت بھی لاہور شہر میں قومی اسمبلی کی 14 میں سے 11 نشستیں ن لیگ کے پاس ہیں۔ اور اگر اب بھی دوبارہ الیکشن ہوں تو ن لیگ زوردار مقابلہ کرےگی۔ تو پھر مسئلہ کیا تھا، جلسہ ناکام کیوں ہوا؟۔ جلسہ ناکام اس لیے ہوا کیونکہ لوگ اپنے شہداء اور غازیوں سے محبت کرتے ہیں، عوام اب بھی اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ وطن کی خاطر جان کی قربانی سے بھی گریز نہ کرنے والوں کے خلاف زبان درازی ناکامی کی اصل وجہ ہے۔ دوسرا جن کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی جائیدادیں نہیں تھیں، ان سے جائیدادوں کا حساب انتقام نہیں ہے۔ اور یہ گیم لوگ اب خوب سمجھتے ہیں۔ پنجاب بلخصوص لاہور نے 13 دسمبر کو جلسے کے ذریعے اپوزیشن اور ن لیگ کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خاندانی کرپشن اور اپنے ہی اداروں سے محاذ آرائی کی سیاست کا تدارک کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔

دوسری جانب حکومتی ترجمانوں کیلئے بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عوام نے ن لیگ کے بیانیے کو مسترد آپکی گڈ گورننس کی وجہ سے نہیں کیا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور نظام کی دیگر خرابیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ موجودہ کارکردگی کے ساتھ اگر یہ حکومت کسی عوامی ریفرنڈم میں اتری تو بعید از قیاس نہیں کہ ان کے ساتھ بھی ن لیگ کے جلسے والا ہاتھ ہوجائے۔ پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ ناکام ہو گیا، عوام نے فیصلہ دے دیا لیکن اب آپ کی جانب سے زنانہ طعنوں کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ مناسب یہی ہے کہ اب آپ اپنے منشور اور کارکردگی پر گفتگو کریں۔ وزیراعظم عمران خان کو یہ سبق پیش نظر رکھنا ہوگا کہ لاہور اگر ن لیگ کو مسترد کر سکتا ہے تو کل آپکی کارکردگی پر بھی حساب کتاب ہو سکتا ہے۔ اگر موجودہ کارکردگی کو بہتر نہ بنایا گیا تو پھر کل کو آپ ہی کے دعوؤں کو بنیاد بنا کر لاہور آپ کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دے گا۔ یہ ایک موقع ہے کہ آپ عوامی مشکلات میں کمی کیلئے فی الفور اقدامات اُٹھائیں۔ وزراء، مشیران اور معاونین کو کارکردگی کی بنیاد پر جانچیں۔ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں کیونکہ کل کو آپ کیلئے بھی یوم حساب آنا ہے، جو یقیناً پچھلے سے سخت ہوگا۔ آخر میں پھر سے یادہانی، ن لیگ کی ناکامی کی بڑی وجہ ان کا اپنا کرپشن بچاؤ اور ریاست مخالف بیانیہ ہے۔ کیونکہ اگر آپکی کارکردگی کو بنیاد بنایا جاتا تو پھر شاید داستان تک نہ ہوتی داستانوں میں۔۔۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں